این آئی اے کا استعمال سیاسی مقاصد کےلئے۔ پوری بحث ذاکرنائک کے بہانے ہندوستانی مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے چلائی جارہی ہے۔
مسیح الدین سنجری
ذکر نائک ملک سی بڑے نہیں ہیں اس لئے دہشت گردی سے متعلق کسی بھی مشتبہ معاملے میں انکے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے اور خبروں کے مطابق این آئی اے تحقیقات کر بھی رہی ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے ذاکر نائک سے متاثر تھے اس لئے تحقیقات ہونی چاہئے یہ بات بلا جواز ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ آخر ذاکر نائک یا اس ملتے جلتے ناموں کی ہی تحقیقات کیوں؟
اگر اسے تفتیش کے لئے مضبوط وجہ مان بھی لیا جائے تو سوامی اسیمانند سے لیکر پرگیہ سنگھ ٹھاکر،سنیل جوشی وغیرہ تک سبھی آر ایس ایس کےلئے سرگرم رہے ہیں۔ مذکوہ سبھی آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھے۔ انکے خلاف دہشت گردانہ واقعات میں شامل ہونے کے جرم میں چارج تک فریم ہونے کے باوجود آرایس ایس کے کسی لیڈر کے خلاف کوئی ایجنسی حرکت میں کیوں نہیں آئی؟
جب گجرات ایس آئی ٹی کے رکن ستیش چندر ورما نے پارلیمنٹ حملے کو داخلی سازش قرار دیا تھا، انکا اشارہ اس وقت کی مرکزی حکومت کے ایک بڑے وزیر کی طرف تھا، اور یہ بات کسی عام انسان نے نہیں بلکہ مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری آر وی ایس منی نے کہی تھی۔ لیکن اسکی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔

یہ غیر منصفانہ اور دوہرا معیار ہے
یہ تو صرف دو مثالیں ہیں۔ ایسے کئی معاملات ہیں جو اس اعتبار سے تحقیقات کے دائرے میں آتے ہیں۔

اس سی بڑھ کر یہ کہ جن معاملات میں پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں نے بےگناہوں کو فرضی طریقے سے پھنسایا اور انکے خلاف ثبوت گڑھے۔ عدالتوں نے بھی انکے خلاف تلخ تبصرے کئے۔ انکی تحقیقات کب ہوگی؟ یہ غیر منصفانہ اور انصاف کا دوہرا معیار ہے جہاں انصاف کی کسوٹی سے انھیں لوگوں گزرنا ہے جنکے نام ذاکر نائک جیسے ہیں۔
ذاکر نائک معاملے پر ہونے والی بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ این آئی کا استعمال سیاسی مقاصد کےلئے ہو رہا ہے۔ پوری بحث ذاکر نائک کے بہانے سے ہندوستانی مسلمانوں کو ٹارگٹ کر کے چلائی جارہی ہے۔ ہندوؤں کا بھی ایک بڑا طبقہ ذاکر نائک کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہاہے۔ اس بہانے سے فرقہ پرست طاقتیں عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات اور خوف پیدا کرکے فرقہ پرستی کی بنیاد پر غول بند ہونے کا ماحول بنا رہی ہیں۔ ذاکر نائک کی تقاریر پر سب سے زیادہ اعتراض ان لوگوں کو ہے جو اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے زہر کی کھیتی کرتے آئے ہیں اور انھیں اس پر فخر بھی ہے۔