دو قومی نظریہ کے گنہگار: ہندُتو کی پیدائش، جسے جناح نےگود لیا
دو قومی نظریہ کے گنہگار: ہندُتو کی پیدائش، جسے جناح نےگود لیا
دو قومی نظریہ کے گنہگار: ہندُتو کی پیدائش، جسے جناح نےگود لیا
تصویر کو مسئلہ بنا کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) پر گزشتہ دنوں جو حملے کئے، ان کے بعد دو قومی نظریہ ایک بار پھر زیرِبحث آ گیا۔ یونیورسٹی طلبا یونین کے دفتر میں محمد علی جناح کی یہ تصویر گزشتہ 80 سالوں سے لگی ہے، جس پر اعتراض کر ہندوتوا بریگیڈ اپنی روایت کے مطابق ہی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کر رہی ہے۔ یہ کام بی ایس مُنجے، بھائی پرمانند، وِنايك دامودر ساورکر، ایم ایس گولولکر اور دیگر ہندو قوم پرستوں کے سلسلے سے آنے والے لوگ کر رہے ہیں، جنہوں نے نہ صرف دو قومی نظریہ پیش کیا بلکہ (جارحانہ طور پر مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کیا جائے، جو پہلے ہندو راشٹر تھا) آج بھی جن کا عقیدہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو علاحدہ راشٹر (قومیں) ہیں۔ بھارت کے سیاسی منظر نامے پر جناح یا مسلم لیگ کے طلوع ہونے سے بہت پہلے آر ایس ایس کے لوگ، جو آج ہندوستان کے حکمراں ہیں، متواتر یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں سے ان کے شہری حقوق چھین لئے جانے چاہئیں۔
دنیا بھر میں پھیلے اپنے دوستوں اور خیر خواہان کے اصرار پر دو قومی نظریے کے اس طالب علم کو یہ وقت مناسب لگا کہ اس موضوع کا خاطر خواہ اور مستند مطالعہ پیش کر دیا جائے، جس سے دو قومی نظریے کے آغاز سے لے کر آج تک کے اس کے سفر کو سمجھا جا سکے۔
اس وقت دنیا کی کوئی فاشسٹ تنظیم دوغلی باتیں کرنے، اور نت نئی سازشیں رچنے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ سن 2002ء میں گجرات میں کئے گئے مسلمانوں کے قتلِ عام پر لکھتے وقت بھارت کے ایک کثیرالاشاعت انگریزی روزنامے نے آر ایس ایس کے بارے میں نامور مصنف جارج آرویل کے ذریعے استعمال کی گئی اصطلاح 'ڈبل اسپیک' (دو مُنها) کو اس تخریب کار تنظیم کے لئے کمتر بتایا تھا۔1 جہاں تک اس تنظیم کی سازشانہ ذہنیت کا تعلق ہے، اسے سب سے پہلے کسی اور نے نہیں ڈاکٹر راجندر پرشاد، جو پہلے صدر جمہوریہ ہند تھے، نے بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کو اس جانب متوجہ بھی کیا،
"مجھے بتایا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے لوگ بدامنی پھیلانے کے لئے شر انگیزی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو مسلمانوں کی طرح بھیس بنا کر تیار کیا ہے، جو ہندوؤں پر حملہ کریں گے، جس سے ہندو بھڑک جائیں۔ اسی طرح انہوں نے کچھ ہندوؤں کو تیار کیا ہے جو مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں بھڑکائیں گے۔ اس طرح ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ ایک بڑا تنازع کھڑا ہو جائے گا۔"2
پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے سہارے، ہندُتووادی شرارتی عناصر کے ذریعے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر کیے جا رہے حالیہ حملوں میں آر ایس ایس کا یہی تخریب پسند کردار سامنے آتا ہے۔ یہاں مختصراً یہ معاملہ درج کیا جاتا ہے: 2 مئی 2018 کو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی طرف سے ہندوستان کے سابق نائب صدر ڈاکٹر حامد انصاری کو یونین کی تا حیات رکنیت تفویض کرنے کے لئے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر، سابق نائب صدر طالب علموں سے خطاب بھی کرنے والے تھے۔ ملک کے سابق نائب صدر کے پروگرام کو پروٹوکول کے تحت انٹیلیجنس ایجنسیوں اور مقامی انتظامیہ نے گرین سگنل دے دیا تھا۔
انصاری کے مطابق ان کے اس پروگرام کی جانکاری سب کو تھی اور متعلقہ افسران کو اس کے بارے میں باضابطہ طور پر بتا بھی دیا گیا تھا، تاکہ فنکشن کے لیے حفاظتی انتظامات سمیت دیگر امور کا نظم بھی خاطر خواہ کر لیا جائے۔ اس کے باوجود "یونیورسٹی کے اُس گیسٹ ہاوس تک شرارتی عناصر کا پہنچ جانا، جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا، سمجھ سے پرے ہے۔"3 ہندُتووادی شدت پسند اس حملے کو یہ کہہ کر جائز ٹھہرا رہے ہیں کہ طلبہ یونین کے دفتر میں بانیئ پاکستان جناح کا فوٹو آخر لگا ہی کیوں ہے۔ حالانکہ جناح کی یہ تصویر وہاں سن 1938 سے لگی ہے، جب اُنہیں طلبہ یونین کی تاحیات رکنیت دی گئی تھی۔ ہندُتووادی بریگیڈ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس بات کو 80 برس ہونے کو آئے، وہ تو اب اس معاملے کو اٹھا رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اترپردیش میں ان کی سرکار ہندوؤں کا اعتماد کھوتی جا رہی ہے، جس کی بدولت وہ برسرِاقتدار آ پائے ہیں۔ انصاری ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر اس حملے کے لیے وقت کا انتخاب اور "اسے جائز ٹھہرانے کے بہانے کھوجنا"، اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ہتھیاربند ہندو شدت پسند وہاں سے جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کھڑاکر دیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ ملک کے عوام کو شاید پتہ نہ ہو کہ بانِئ پاکستان محمد علی جناح سن 1942-43 میں ہندو مہا سبھا کے ساتھ مل کر مشترکہ سرکار چلا رہے تھے، جس کی بات ہم آگے کریں گے۔
جناح کے بارے میں کچھ حقائق، جنہیں جاننا ضروری ہے۔۔۔
بہتر ہوگا کہ ہم جناح کے ماضی سے جُڑے اُن حقائق کی بابت بھی کچھ واقفیت حاصل کر لیں کہ مسلم علاحدگی پسندی کا علم اٹھانے سے پہلے وہ کس نہج پر کام کر رہے تھے۔ اس سے پہلے اصل میں جناح کانگریس کے قدآور لیڈر اور پکے سیکولرِسٹ تھے۔ دادا بھائی نوروجی، گوپال کرشن گوکھلے، اینی بیسینٹ، ایم کے گاندھی، نہرو (موتی لعل و جواہر لعل نہرو)، مولانا آزاد، سردار پٹیل اور انہیں کی طرح کے بڑے کانگریسی لیڈران کے ساتھ جناح نے انگریز حکمرانوں کے خلاف جنگِ آزادی میں سرگرم کردار نبھایا۔
انگریز حکمرانوں کے خلاف وہ دہشت گرد اقدام کے حامی نہیں تھے، لیکن جب بھگت سنگھ جیل میں تھے اور انہیں پھانسی کی سزا سنانے کا قانونی عمل، ان کی عدم موجودگی میں شروع کر دیا گیا تو اُس دور کی پارلیمنٹ، سنٹرل اسمبلی میں 12 ستمبر 1929 کو جناح نے اِس ایکطرفہ سنوائی کے خلاف ایک موئثر بیان دیا۔ جناح نے کہا:
"جو شخص بھوک ہڑتال کرتا ہے، اس کی روح بیدار ہوتی ہے۔ وہ اسی روح سے تحریک پاتا ہے اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے انصاف میں یقین رکھتا ہے۔ وہ عام مجرم نہیں ہے، جو بے رحمی سے کیے گئے متشدد جرم کا ذمہ دار ہو۔۔۔ میں بھگت سنگھ کی حمایت نہیں کر رہا، میں اسے قبول کرتا ہوں کہ صحیح یا غلط آج کا نوجوان مشتعل ہے۔۔۔ چاہے آپ نے انہیں حد سے زیادہ بھڑکا دیا ہو یا چاہے آپ یہ کہیں کہ انہیں بہکایا جا رہا ہے، یہ نظام ہے، یہی حکمرانوں کا قابلِ مذمت نظام، اب جس کی لوگ سخت مخالفت کر رہے ہیں۔"4
اس سے پہلے سن 1916 میں وہ بال گنگا دھر تِلک (ہندُتو وادیوں کے خاص چہیتے) کے خلاف چل رہے بغاوت کے مقدمے میں تلک کے وکیل تھے۔ اس میں تلک کو موت کی سزا بھی ہو سکتی تھی، مگر جناح نے اس مقدمے میں انگریز سرکار کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی، جو غیر ملکی حکمرانوں کے لیے بےحد شرمناک تھا۔
1935 کے آس پاس لاہور میں ایک مذہبی مقام کو لے کر سکھوں و مسلمانوں کے بیچ ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا۔ سکھوں کے مطابق یہ شہیدی گرودوارا تھا، جبکہ مسلمان اسے مسجد قرار دے رہے تھے۔ اس معاملے میں مسلم فریق اپنا مقدمہ لڑنے کی خواہش لے کر جناح کے پاس پہنچے، لیکن جناح نے ان کی بات نامنظور کر دی اور اس معاملے سے دوری بنائے رکھی۔ 1920-21 میں وہ گاندھی کی قیادت میں کام کر رہی کانگریس سے الگ ہو گئے، کیونکہ گاندھی عوام کی سیاست، خصوصاً مذہبی قیادت کو قومی سطح کی سیاست میں شامل کرنے کے خلاف تھے۔ کانگریس نے جناح کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے جناح نے مسلم لیگ کا رخ کر لیا۔ اُسی مسلم لیگ کا، جسے وہ مسلم قوم کے زردار سامنت وادی طبقے کی نمائندگی کرنے والی تنظیم قرار دے چکے تھے۔ مذہبی عقائد و ذاتی اعمال کی بنیاد پر انہیں ایک مذہبی مسلمان کی صف میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انہیں خنزیر کا گوشت پسند تھا اور ان کی شامیں شراب نوشی میں گزرتی تھیں۔ اتفاق سے وہ اردو پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ اس کے بجائے انگریزی و گجراتی میں انہیں مہارت حاصل تھی۔
اہم حقیقت یہ ہے کہ جناح جب ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اور متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں برابر کے شریک تھے، تب ہندُتووادی انہیں بدنام کرنے میں لگے تھے۔ گاندھی، موتی لعل نہرو، آزاد ہندوتووادیوں کے اگلے شکار تھے۔
جناح نے نہیں ہندو راشٹروادیوں نے پیش کیا تھا دو قومی نظریہ
مسلمانوں کے ایک طبقے کے ذریعے دو قومی نظریے کی حمایت کیے جانے سے بہت پہلے ہندو راشٹروادیوں نے اِس کی داغ بیل ڈال دی تھی۔ اس نظریے کے حامی مسلم لیگی مسلمان اصل میں تو ان ہندو راشٹروادیوں کے نقشِ قدم پر چل رہے تھے۔ انہوں نے یہ نظریہ ہندتووادی مفکرین سے مستعار لیا تھا۔
سب سے پہلے بنگالی برہمنوں نے پیش کیا تھا ہندو راشٹر کا تصور
اُنیسویں صدی کے آخر میں بنگال کے ہندو راشٹروادیوں نے یہ تصور پیش کیا۔ اربِندو گھوش کے نانا راج ناراین بسو (1826-1899) اور ان کے قریبی ساتھی نبھا گوپال مِترا (1840-94) کو ہندوستان میں دو قومی نظریے اور ہندو راشٹرواد کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ راج ناراین بسو نے قوم پرستانہ جذبات پیدا کرنے کے لیے ایک سوسائٹی بنائی تھی، جو مقامی پڑھے لکھے طبقوں میں ہندو تہذیب کی برتری کی تشہیر کرتی تھی۔ وہ میٹنگس کا انعقاد کرکے ان میں دعویٰ کرتے کہ ذات پات پر مبنی سماج ہونے کے باوجود ہندواِزم ایک اعلیٰ درجے کا مثالی سماجی نظام پیش کرتا ہے، جس تک عیسائی و اسلامی تہذیب کبھی نہیں پہنچ پائیں۔
بسو، دیگر مذاہب کے مقابلے ہندواِزم کو نہ صرف برتر مانتے تھے بلکہ وہ ذات پات والے نظام کے بھی کٹّر حمایتی تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مہا ہندو سمیتی کا تصور پیش کیا اور بھارت دھرم مہا منڈل قایم کرنے میں مدد کی، جو بعد کو ہندو مہا سبھا بن گئی۔ انھیں یقین تھا کہ اس تنظیم کے ذریعے ہندو بھارت میں آریہ راشٹر قایم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔1 انہوں نے یہ تصور بھی کر لیا تھا کہ ایک طاقتور ہندو راشٹر کا جنم ہو رہا ہے، جس کی حکمرانی نہ صرف پورے ہندوستان پر بلکہ پوری دنیا پر ہوگی۔ انہوں نے تو یہ تک دیکھ لیا کہ
"عظیم الشان و طاقتور ہندو راشٹر نیند سے جاگ گیا ہے اور روحانیت کے ساتھ ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ پھر سے بیدار ہو چکا یہ راشٹر اپنے علم، روحانیت اور تہذیب کے نور سے سنسار کو دوبارہ جگمگا رہا ہے۔ ہندو راشٹر کا جاہ و جلال ایک بار پھر سے دنیا میں جلوہ فگن ہو رہا ہے۔"5
نبھا گوپال مِترا ایک سالانہ ہندو میلے کا انعقاد کرنے لگے۔ عموماً بنگالی سال کے آخری دن یہ میلہ لگایا جاتا، جس میں بنگال کے ہندو طریقِ زندگی سے جُڑے تمام پہلووں کو پیش کیا جاتا۔ 1867 سے 1880 تک یہ میلا لگاتار چلتا رہا۔ ہندووں میں ایکتا و ان میں جذبہِ قومیت کی تشہیر کے لیے مِترا نے ایک راشٹریہ ہندو سوسائٹی بنائی اور ایک اخبار کی شروعات کی۔ اپنے اخبار میں مِترا کا کہنا تھا کہ ہندو اپنے دم پر خود ایک ہندو راشٹر قایم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق،
"بھارت میں راشٹریہ ایکتا کی بنیاد ہی ہندو دھرم ہے۔ یہ ہندو راشٹرواد مقامی سطح پر و زبانیں الگ الگ ہونے کے باوجود ہندوستان کے ہر ایک ہندو کو اپنے میں شامل کر لیتا ہے۔"6
بنگال میں ہندو راشٹرواد کے عروج پر گہری نظر رکھنے والے آر سی مجُمدار کو اس حقیقت تک پہنچنے میں وقت نہیں لگا کہ
"نبھا گوپال نے جناح کے دو قومی نظریے کو آدھی صدی سے بھی پہلے پیش کر دیا تھا۔"7 تبھی سے "جانے انجانے میں پورے ہندوستان کے راشٹرواد پر ہندو مت کی چھاپ نظر آتی ہے۔"8
آریہ سماج کا کردار
شمالی ہند میں تو آریہ سماج کا یہی جارحانہ اعلان تھا کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان، حقیقت میں دو الگ الگ قومیں ہیں۔ بھائی پرمانند (1874-1947) شمالی ہند میں آریہ سماج کے اہم کارکن اور کانگریس و ہندو مہا سبھا کے لیڈر تھے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر مسلم مخالف ادب تیار کیا، جس میں اس بات کو پُرزور طریقے سے پیش کیا گیا تھا کہ ہندوستان ہندوؤں کی سرزمین ہے، جہاں سے مسلمانوں کو باہر کیا جانا چاہیے۔
وی ڈی ساورکر (1883-1966) ایم ایس گولولکر (1906-1973) جنہوں نے مفصل طور پر ایسے ہندو راشٹر کے تصورات پیش کیے، جن میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ ان سے عرصہ پہلے یہ بھائی پرمانند تھے، جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہی کہا کہ ہندواِزم کو ماننے والے اور اسلام، ہندوستان میں دو الگ الگ طبقے ہیں، کیونکہ مسلمان جس مذہب کو مانتے ہیں وہ عرب سے نکلا ہے۔ بھائی پرمانند نے خاص طور سے اردو میں ایسا ادب تیار کیا، جس میں زور دے کر کہا جاتا تھا کہ ہندو ہی ہندوستان کی سچی اولادیں ہیں اور مسلمان باہری لوگ ہیں۔0 سن 1908-09 کے آغاز میں ہی انہوں نے مخصوص علاقوں سے ہندو و مسلم آبادی کے تبادلے کا منصوبہ پیش کر دیا۔ اپنی خودنوشت میں انہوں نے یہ خاکہ پیش کیا تھا، جس کے مطابق:
"سندھ کے بعد کی سرحد کو افغانستان سے ملا دیا جائے، جس میں شمال مغربی سرحد کے علاقوں کو شامل کر کے ایک عظیم مسلم سلطنت قایم کر لیں۔ اس علاقے کے ہندوؤں کو وہاں سے نکل جانا چاہیے۔ اسی طرح ملک کے دیگر حصوں میں آباد مسلمانوں کا وہاں سے نکل کر اس نئی جگہ بس جانا چاہیے۔"9
لاجپت رائے (1865-1928) ایک ساتھ ہندو مہاسبھا، کانگریس اور آریہ سماج کے جانے مانے لیڈر تھے۔
"جناح کا زہریلے دو قومی نظریے کو 1939 میں پیش کرنا اور 1940 میں تباہ کن تقسیمِ ہند کے مطالبے سے بہت پہلے لالہ لاجپت رائے اور ساورکر جیسے ہندو مہا سبھا کے نیتاؤں نے کھلے طور پر (دو قومی) نظریے کی حمایت کی تھی۔۔۔"10 1899 میں لاجپت رائے نے انڈین نیشنل کانگریس کی فکر پر ہندوستان ریویو نام کے مجلے میں ایک مضمون لکھا۔ اس میں انہوں نے اعلان کیا کہ "ہندو اپنے آپ میں ایک قوم ہیں، جو سب کی نمائندگی کرتے ہیں۔"11
1924 میں انہوں نے دو قومی نظریے کی بات بہت واضح طور پر کہی تھی، انہوں نے لکھا:
"میرے منصوبے کے مطابق مسلمانوں کو چار صوبے: پٹھانوں کا شمال مغربی حصہ، مغربی پنجاب، سندھ اور مشرقی بنگال ملیں گے۔ اگر کسی دیگر حصے میں مسلمان اتنے زیادہ ہوں کہ ایک صوبہ بنایا جا سکے، تو اُسے بھی یہی شکل دی جائے لیکن اتنا بہت اچھے سے سمجھ لیا جانا چاہیے کہ یہ ایک مشترکہ بھارت یعنی یونائیٹیڈ انڈیا نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہندوستان کی ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں واضح تقسیم ہے۔"12
لالا لاجپت رائے نے پنجاب کی تقسیم کی تجویز ان الفاظ میں رکھی،
"میں ایک ایسے حل کی صلاح دوں گا، جس سے ہندوؤں و سکھوں کے جذبات مجروح کیے بغیر مسلمان ایک موثر اکثریت پا سکتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ پنجاب کو دو صوبوں میں بانٹ دیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں کی اکثریت والے مغربی پنجاب میں مسلمانوں کی حکومت ہو اور مشرقی پنجاب جس میں ہندو و سکھ زیادہ تعداد میں ہیں، اُسے کسی غیر مسلم کی حکمرانی میں ہونا چاہیے۔"13
اس کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ لاجپت رائے اور ان کے ہم خیال لوگوں کے دو قومی نظریے بابت خیالات کا اس نظریے کے حامی مسلمانوں کو علم تھا۔ انہوں نے ان راشٹر اور قوم مخالف خیالات سے لوہا لینے کے بجائے انہیں قبول کر لیا۔
دو قومی نظریے کے ہندو پیروکار راشٹروادی مُنجے، ہردیال، ساورکر اور گولولکر
کانگریس کے ایک اور بااثر نیتا ڈاکٹر بی ایس مُنجے تھے، جنہوں نے ہندو مہاسبھا کے پھلنے پھولنے اور آر ایس ایس کے قیام میں مدد کی۔ انہوں نے تو 1940 میں مسلم لیگ کے ذریعے پاکستان کا مطالبہ کیے جانے سے بہت پہلے ہندو علاحدگی پسندی کی حمایت کر دی تھی۔ منجے نے 1923 میں ہندو مہاسبھا کے تیسرے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ:
جیسے انگلینڈ انگریزوں کا، فرانس فرانسیسیوں کا اور جرمنی جرمن باشندوں کا ہے، اسی طرح بھارت ہندوؤں کا ہے۔ اگر ہندو منظم ہو جاتے ہیں تو وہ انگریزوں اور ان کے پِٹّھوؤں کو بس میں کر سکتے ہیں... دیگر کمیونٹیز کی شُدّھی کرکے اپنی دنیا خود تعمیر کر سکتے اور تنظیم بھی بنا سکتے ہیں۔14
یہ منجے کی کم علمی ہی تھی، جو وہ انگلینڈ، فرانس اور جرمنی کی مثال دے کر کہہ رہے تھے کہ بھارت ہندوؤں کا ہے۔ انگلش، فرنچ اور جرمن شناخت کا مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ ان ممالک کے باشندوں کی شناخت سیکولر باشندوں کے طور پر تھی۔
مسلم لیگ کے ذریعے مسلمانوں کے لئے الگ ملک کا مطالبہ کیے جانے سے بہت پہلے، غدر پارٹی کے سلسلے میں مشہور ہو چکے لالہ ہردیال (1884-1938) نے سن 1925 میں ہی بھارت میں نہ صرف ایک علاحدہ ہندو راشٹر کی بات کہی تھی، بلکہ افغانستان کے ہندوائے جانے کا بھی مشورہ دے دیا تھا۔ سن 1925 میں ان کا ایک اہم سیاسی بیان کانپور سے شائع ہونے والے پرتاپ میں آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا:
"میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہندوستان اور پنجاب کی ہندو نسلوں کا مستقبل ان چار بنیادوں ہر ٹِکا ہوا ہے: 1. ہندو سنگٹھن 2. ہندو راج 3. مسلمانوں کی شُدّھی اور 4. افغانستان اور سرحدی علاقوں کی فتح اور شُدّھی۔ ہندو راشٹر جب تک یہ چاروں کام نہیں کرتا تو ہمارے بچے اور ان کے بعد کی اولادیں اور ہندو نسل ہمیشہ خطرے میں رہیں گے، ان کی حفاظت ناممکن ہوگی۔ ہندو نسل کی تاریخ ایک ہی ہے اور ان کے سماج مشترک ہیں۔ جبکہ مسلمان اور عیسائی ہندوستانی اثرات سے اچھوتے ہیں۔ وہ اپنے مذاہب نیز فارسی، عرب اور یورپی معاشرے کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے یہ بیرونی لوگ ہیں، ان کی شُدّھی کی جائے۔ افغانستان اور پہاڑی علاقے پہلے بھارت کے حصے تھے، جو آج اسلام کے زیرِ اثر ہیں۔ اس لیے افغانستان اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں بھی ہندو راج ہونا چاہئے، جیسا نیپال میں ہے۔ اس کے بغیر سوراج کی بات فضول ہے۔"15
ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے اور یہاں سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو باہر نکال دینے کے تمام طریقے 1923 کے شروع میں وِنايك دامودر ساورکر نے اپنی متنازعہ کتاب ہندوتو میں زیادہ تفصیل سے پیش کیے۔ ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور انہیں منقسم کرنے والی اس کتاب کو لکھنے کی اجازت حیران کن طور پر انہیں انگریزوں کی قید میں رہتے دے دی گئی۔ ان کے ذریعے پیش کی گئی ہندو راشٹر کی تعریف میں، مسلمان و عیسائی شامل نہیں تھے، کیونکہ وہ ہندو ثقافتی وِرثے سے جُڑتے نہیں تھے، نہ ہی ہندو مذہب اختیار کرتے تھے۔ انہوں نے لکھا:
"عیسائی اور محمڈن، جو کچھ وقت پہلے تک ہندو ہی تھے اور زیادہ تر معاملات میں ان کی پہلی نسل اس نئے ماحول میں رچنے بسنے کی خواہش مند تھی۔ ان کے بدن میں ہندو لہو ہے لیکن انہوں نے ایک نئی تہذیب اپنائی ہے، اس کی وجہ سے یہ ہندو نہیں کہے جا سکتے ہیں۔ نیا مذہب اختیار کرنے کے بعد، انہوں نے ہندو تہذیب و ثقافت کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے، وہ سوچتے ہیں کہ اب وہ ہندو تہذیب سے الگ ہو گئے ہیں۔ اُن کے تہوار اور میلے (عرس وغیرہ) الگ ہیں اور ان کے ہیرو بھی مختلف ہیں۔ ان کے اصول اور زندگی کو دیکھنے کا ان کا نظریہ بدل گیا ہے۔ وہ اب ہم سے میل نہیں کھاتے لہذا انہیں ہندو نہیں کہا جا سکتا۔"16
ہندُتووادی سیاست کی داغ بیل ڈالنے والے ساورکر نے بعد میں دو قومی نظریے کو تفصیل سے بیان کیا۔ اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ مسلم لیگ نے تو پاکستان کی قرارداد 1940 میں منظور کی تھی، لیکن آر ایس ایس کے عظیم مفکر اور رہنما ساورکر نے اس سے بہت پہلے دو قومی نظریہ پیش کر دیا تھا۔ 1937 میں احمد آباد میں ہندو مہاسبھا کے 19ویں سالانہ اجلاس کے صدارتی خطبے میں انہوں نے واضح طور پر یہی بات دوہرائی کہ،
حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں دو باہم مخالف قومیں ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔ بہت سے ناپُختہ سوچ کے مالک سیاستداں یہ ماننے میں زبردست غلطی کرتے ہیں کہ دو کمیونٹی جو ایک دوسرے کی مخالف ہیں اور دونوں میں عداوت ہے، وہ مل کر رہ سکتی ہیں اور ایک دوسرے سے جُڑ سکتی ہیں۔ ہمارے اِن بھلے مانس لیکن فکر سے مُبرّا دوستوں کو اپنے اِن خوابوں کا سامنا حقائق سے کرانا چاہیے۔ کیونکہ وہ فرقہ پرستی سے جُڑی الجھنوں کے تئیں جلدبازی میں ہیں اور انہیں فرقہ پرست تنظیموں سے جوڑ دیتے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد فرقہ پرستانہ سوال ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں سے چلی آ رہی ثقافتی، مذہبی اور قومی منافرت کا نتیجہ ہے۔ وہ وقت گزر گیا، جب آپ اس منافرت کو ختم کر سکتے تھے۔ ساتھ ہی آپ ان سے نظریں چرا کر انہیں دبا نہیں سکتے۔ بہتر یہ ہوگا کہ آپ انہیں سمجھیں اور نظر انداز کرنے کے بجائے گہرائی سے ان کا علاج کریں۔ ہمیں کھلے من سے اِن تلخ حقائق کو قبول کرلینا چاہئے، جیسے کہ وہ ہیں۔ موجودہ صورتحال میں، یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت ایک مستحکم اور ہمہ مذہبی ملک ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں دو راشٹر ہیں، ایک ہندو اور ایک مسلمان۔17
ساورکر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آر ایس ایس نے یہ خیال مسترد کر دیا کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ یوم آزادی (14 اگست 1947) کی شام کو آر ایس ایس کے انگریزی ترجمان اخبار 'آرگنائزر' کے اداریہ میں راشٹر کے ان کے تصور کو اِن الفاظ میں پیش کیا گيا:
"اب ہمیں خود کو قوم پرستی کے مفروضہ تصورات سے متاثر ہونے سے بچنا چاہئے۔ بہت سارے ذہنی انتشار کے ساتھ موجودہ اور مستقبل کی پریشانیوں کو دور کیا جا سکتا ہے، اس آسان حقیقت کو قبول کر کے کہ ہندوستھان میں صرف ہندو ہی قوم کی تعمیر کرتے ہیں اور ملک کا ڈھانچہ اُسی محفوظ اور مضبوط بنیاد پر کھڑا کیا جانا چاہیے... راشٹر کی تعمیر ہندوؤں کے ذریعے، ہندو روایات، ثقافت و تفکرات اور خواہشات کی بنیاد پر کی جانا چاہئے۔"
آزادی سے پہلے کے ہندوستان کی فرقہ وارانہ سیاست کے ماہر، محقق و مفکر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر دو قومی نظریے کے بارے میں ہندو مہاسبھا اور مسلم لیگ کے یکساں خیالات اور آپسی سمجھ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ بات بھلے عجیب لگے لیکن ایک راشٹر بنام دو راشٹر کے سوال پر مسٹر ساورکر اور مسٹر جناح کے خیالات متضاد ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ دونوں ہی اسے قبول کرتے ہیں، نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ بھارت میں دو راشٹر ہیں، ایک مسلم راش


